سنی ان سنی

اگر آپ اردو پڑھاتی/ پڑھاتے ہیں اور وقفے وقفے سے طلبا کی سمعی مہارت کی جانچ کرتے ہیں تو یہاں آپ پائیں گے 'سمعی مہارت کی سرگرمیاں' ۔ ان سرگرمیوں سے طلبا کے فہم میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کا تلفظ بہتر ہوتا ہے۔ہم نے مشقوں کو درجات میں تقسیم کیا ہے۔ بہرحال طلبا کی صلاحیت اور اپچ کے مطابق موزوں سرگرمی کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ مختلف انداز سے بچوں کی سمعی مہارت کی جانچ کے لیے ہر سرگرمی میں آڈیو کے ساتھ دو یا تین مشقیں دی گئی ہیں۔ہمیں ضرور بتائیے گا کہ ہم اپنی زنبیل میں کن نئی مشقوں کا اضافہ کر سکتے ہیں یا ان سرگرمیوں کو مزید بہتر کیسے بنا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ ہمیں اپنی تیار کردہ سرگرمی بھی بھیج سکتی/ سکتے ہیں۔ اسے ہم تدوین کے بعد زنبیل کے صارفین کے لیے پیش کریں گے اور شکریے کے ساتھ آپ کے تعاون کے اعتراف کریں گے۔ 
-          زینہ اول 

-          زینہ دوم

-          زینہ سوم

سمعی مہارت کی مشقیں

زلفی بھیا اسلام آباد میں رہتے ہیں۔  ان کا آفس پچھلے سال وہاں منتقل ہو گیا تھا۔ میں اور عمر انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ وہ سال میں صرف ایک بار چھٹیاں لے کر کراچی آتے ہیں لیکن ہم سے ہر روز فون پر بات کرتے ہیں۔ وہ امی جان اور ابا جان سے بات کرکے انہیں اپنی خیریت بتاتے ہیں۔ ابا جان سے کام کے حوالے سے مشورہ بھی کرتے ہیں اور امی سے کھانے کی ترکیبیں بھی پوچھتے ہیں۔ میں انہیں اپنے اسکول کے بارے میں بتاتی ہوں۔ لیکن عمر  ۔۔۔عمر ان سے بات نہیں کرتا۔ وہ ابھی تک ناراض ہے کہ زلفی بھیا اسلام آباد کیوں گئے۔ امی جان روز انہیں بہت سی دعائیں دیتی ہیں اور اگلے دن فون کرنے کی تاکید کرتی ہیں۔

ہمارے چچا جان کے ایک دوست حیدرآباد میں رہتے ہیں۔ ان کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے چچا جان کو حیدرآباد جانا ہے۔ ان کی فیملی میں بیگم، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دادا جان اور دادی جان بھی چچا جان کے ساتھ رہتے ہیں لیکن وہ اس لمبے سفر پر نہیں جا رہے۔  حیدرآباد کراچی سے بہت دور نہیں لیکن وہاں پہنچنے میں کم از کم تین گھنٹے لگتے ہیں۔ چچا جان نے سفر کی مکمل تیاری کی۔  چچی جان نے راستے میں کھانے کے لیے سینڈوچ اور کباب بنا کر رکھ لیے ہیں۔ اور پانی کی بوتلیں بھی رکھی ہیں۔ وہ اپنا کیمرا بھی ساتھ لے جا رہے ہیں تاکہ سفر کے دوران تصویریں لیں۔ اس کے علاوہ وہ شادی کی تصویریں بھی کھینچیں گے۔ دادی جان نے انہیں سفر پر جانے سے پہلے دعا دی کہ وہ خیریت سے جائیں اور خیریت سے واپس آئیں۔

زیان بیٹے کو اسٹیکرز جمع کرنے کا بہت شوق ہے۔ زیان کو بچپن میں ان کی استانی نے انعام کے طور پر کچھ اسٹیکرز دیئے تھے جس کے بعد ان میں یہ شوق پیدا ہوا۔ زیان میاں کے پاس مختلف شکل، رنگ اور بناوٹ کے پانچ سو سے زیادہ اسٹیکرز ہیں۔ ان میں کچھ جانوروں والے اسٹیکرز ہیں اور کچھ پھل اور سبزیوں کے۔ کیڑوں والے اسٹیکرز تو بالکل اصلی لگتے ہیں۔ زیان میاں ہر ملک کے جھنڈے کا اسٹیکر بھی اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک ان کے پاس سارے ممالک کے جھنڈوں کے اسٹیکرز جمع نہیں ہو سکے۔ وہ اپنے اسٹیکرز کا مجموعہ سب کو فخر سے دکھاتے ہیں۔

مس حبیبہ بہت اچھی استانی ہیں۔ وہ ریاضی کو آسان بنا کر پڑھاتی ہیں۔ پڑھانے کے ساتھ وہ اپنے طلبہ کو اچھا انسان بنانے کی کوششُ بھی کرتی ہیں اور وقتا” فوقتا” بچوں کو اچھی باتیں بتاتی رہتی ہیں۔ ایک دن مس حبیبہ بیمار ہو گئیں اور اسکول نہیں آ سکیں۔ ان کے طلبہ اداس ہو گئے۔ ان کی جگہ ایک دوسرے استاد نے بچوں کو ریاضی پڑھائی۔ بچوں کو سر احمد کا انداز سمجھ نہیں آیا کیونکہ انہوں نے ریاضی کو مشکل اور الجھا ہوا بنا دیا۔ انہوں نے طلبہ کو بہت زیادہ ڈانٹ ڈپٹ بھی کی۔ طلبہ چاہتے ہیں کہ مس حبیبہ جلد صحتیاب ہو کر واپس آ جائیں۔ سب نے مل کر مس حبیبہ کی صحت کے لیے دعا کی۔

 

 

 

 

 

ارسلان ریس کے لیے بالکل تیار ہے۔ سارے لڑکے ترتیب سے لائن پر کھڑے ہیں۔ ارسلان کے اسکول میں کھیلوں کے سالانہ مقابلے ہو رہے ہیں اور دسویں جماعت کے لڑکوں کے لیے سب سے لمبی ریس رکھی گئی ہے۔ ارسلان نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی طرف دیکھا۔ وہ سب بہت پراعتماد نظر آ رہے ہیں۔ ارسلان کو گھبراہٹ سی ہے۔ اس کے ہاتھ پہلے ہی پسینے سے بھیگ چکے ہیں۔ اس نے دل ہی دل میں اپنی امی کی بتائی ہوئی دعا دہرائی تاکہ اس کی پریشانی اور گھبراہٹ کم ہو۔ سیٹی بجتی ہے اور دوڑ شروع ہوجاتی ہے۔ شروع میں وہ تیس سیکنڈ تک آہستہ دوڑتا ہے۔ پھر وہ اپنی رفتار تیز کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھی کھلاڑی شروع میں تیز آرہے تھے لیکن اب سست پڑ چکے ہیں۔ شاید وہ تھک چکے ہیں۔ ارسلان سب سے پہلے اختتامی لکیر تک پہنچ جاتا ہے۔ اپنے نام کا اعلان  سنتے ہی ارسلان سجدہ شکر ادا کرتا ہے۔

 

 

 

منیرہ کے اسکول کی باسکٹ بال ٹیم ایک اہم مقابلہ جیت گئی۔ وہ اور اس کی سب ساتھی کھلاڑی مل کر اس خوشی کا جشن منانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے طے کیا کہ وہ سب منیرہ کے گھر جمع ہوں گی۔ انہیں کھانے کی کچھ پسندیدہ چیزیں لینی تھیں اور کچھ اور انتظامات بھی کرنے تھے۔ سب لڑکیوں نے کام آپس میں تقسیم کر لیے۔ ارمین نے بیکری جا کر آرڈر کیا کہ باسکٹ بال کی شکل کا ایک کیک تیار کر دیں۔ عیشال نے سجاوٹ اور کھیل کا سامان خریدا جس میں بلبلے بنانے والی چھوٹی سی بندوق، رنگ برنگے غبارے اور جھنڈیاں شامل تھیں۔ منیرہ نے انعم کے ساتھ مل کر ساری ساتھیوں کے بیٹھنے اور کھیلنے کا انتظام کیا۔ جمعے کے دن ٹیم کی تمام ساتھی منیرہ کے گھر جمع ہوئیں۔ سب سے پہلے انہوں نے مل کر اللہ کا شکر ادا کیا، اور اپنی ٹیم کی اگلی کامیابیوں کے لیے دعا کی۔ پھر سب نے مختلف کھیل کھیلے اور مل کر کیک کاٹا۔ سب خوشی خوشی اپنے گھروں کو لوٹ گئیں۔

منیرہ باسکٹ بال کھیلتی ہے۔ وہ بہت ماہر کھلاڑی ہے اور ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ اس کی ہم آہنگی بہت اچھی ہے۔ آج منیرہ کے اسکول کی ٹیم کا مقابلہ ایک دوسرے اسکول کی ٹیم سے ہے۔ شروع ہی سے بہت دلچسپ مقابلہ ہو رہا ہے۔ منیرہ اپنی ساتھی کھلاڑی کی طرف دیکھتی ہے اور ساتھی اسے گیند پاس کرتی ہے۔ وہ مخالف ٹیم کے کورٹ کی طرف تیزی سے دوڑتی ہے۔ اس کے لیے بہت پھرتی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب منیرہ گیند کو باسکٹ میں ڈالتی ہے تو اس کی ٹیم بہت خوش ہوتی ہے۔ سب اسے گلے لگاتے ہیں اور اس کا نام زور سے پکارتے ہیں۔ تماشائی بھی خوشی سے داد دیتے ہیں، “واہ! شاباش!”

ہمارے گھر کے قریب ناصر پارک ہے۔ ناصر پارک بہت خوبصورت اور ہرابھرا ہے۔ یہ بہت بڑا بھی ہے اور اس کی صفائی ستھرائی بھی بہت اچھے طریقے سے کی جاتی ہے۔ ناصر پارک میں بہت سے پودے اور پھول ہیں؛ چنبیلی کے سفید پھول، چائنا روز کے گلابی پھول، پٹونیا کے جامنی پھول اور بہت سے مختلف رنگوں، شکل اور سائز کے پودے۔  کچھ پودے چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے۔ مالی بابا نئے پودے بھی لگاتے ہیں۔ باغ میں ایک فوارہ بھی ہے اور بہت سے جھولے بھی۔ ناصرپارک میں ایک چھوٹے سے حصے میں کچھ پنجرے ہیں جن میں خوبصورت پرندے، بندر، بطخیں، کچھوے اور خرگوش ہیں۔ بچے ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں اور ان سے باتیں کرتے ہیں۔

ساحل سمندر بہت مزے کی جگہ ہے۔ ہم ہر سال دو یا تین مرتبہ کراچی کے ساحل پکنک منانے جاتے ہیں۔ وہاں ہمیں بہت سے لوگ نظر آتے ہیں۔ کچھ تیرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ اپنے سرفنگ بورڈ پر لہروں کے بیچ سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ صرف آرام کرنا چاہتے ہیں اس لیے ریت پر لیٹ جاتے ہیں۔ بچے ریت کے قلعے بناتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے قلعے بڑے اور اونچے ہوں۔ بعد میں سمندر کی لہریں ان قلعوں کو بہا لے جاتی ہیں۔ جب لہریں اونچی اور تیز ہوں تو سمندر میں جانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور احتیاط کرنی چاہیے۔

اسجد میاں صبح جلدی اٹھتے ہیں اور سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ پھر اسجد میاں اسکول جانے کی تیاری کرتے ہیں۔ وہ دانتوں کو اچھی طرح صاف کرتے ہیں۔ ان کے دانت چمکیلے ہیں۔ پھر وہ منہ، ہاتھ اور پیر دھوتے ہیں۔ پھر اسجد میاں یونیفارم پہنتے ہیں۔ ان کی قمیص کا رنگ سفید اور پینٹ کا رنگ نیلا ہے۔ پھر اسجد میاں ناشتہ کرتے ہیں جو ان کی امی جان تیار کرتی ہیں۔ اسجد کے اباجان انہیں اسکول چھوڑ کر آتے ہیں۔ جانے سے پہلے وہ امی جان کو السلام علیکم اور اللہ حافظ کہتے ہیں۔
آج بلال میاں کا نئی جماعت میں پہلا دن ہے۔ ان کو کلاس میں سب سے آگے جگہ ملی۔ انہوں نے برابر والی کرسی پر بیٹھے ہوئے بچے کو کہا، “السلام علیکم”۔ اس بچے نے جواب دیا، “وعلیکم السلام”۔ بلال میاں نے اس بچے سے پوچھا، “آپ کا کیا نام ہے؟” اس بچے نے بتایا کہ اس کا نام اکبر ہے۔ بلال اور اکبر باتیں کرنے لگے اور جلد ہی دوست بن گئے۔ پھر ان کی استانی کلاس میں آ گئیں۔ ان کا نام مس ہما ہے۔ وہ ریاضی پڑھاتی ہیں۔
عنایہ کو پیاس لگی۔ اس نے جگ سے ایک گلاس پانی نکالا۔ عنایہ نے چلتے چلتے پانی پینا شروع کیا اور گلاس گرا دیا۔ فرش پر پانی پھیل گیا۔ عنایہ نے فرش صاف کرنے کا پوچھا لا کر پانی صاف کیا  اور ہاتھ دھوئے۔ اس کے بعد ایک اور گلاس پانی نکالا۔ اب عنایہ نے کرسی پر بیٹھ کرپہلے بسم اللہ پڑھی۔ اس کے بعد تین سانس میں آہستہ آہستہ پانی پیا۔ آخر میں عنایہ نے الحمداللہ کہا۔ عنایہ کی پیاس بجھ گئی۔
عمارہ آٹھویں کلاس میں پڑھتی ہیں۔ عمارہ کو کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ پڑھنے کے بعد عمارہ اپنی کتابوں کو خیال سے رکھتی ہیں۔ اب ان کا ایک چھوٹا سا کتب خانہ بن گیا ہے۔ عمارہ کو نئی کتابوں کے لیے اکثر پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ عمارہ کو اس کا ایک حل سمجھ میں آیا۔ انہوں نے اپنے بابا سے اجازت لی کہ وہ پڑوس کے ایک یا دو بچوں کو ٹیوشن پڑھائیں گی اور ان کی فیس کو کتابیں خریدنے کے لیے استعمال کریں گی۔ بابا نے اجازت دے دی۔ عمارہ کے پاس اب دو بچے پڑھنے آتے ہیں۔ عمارہ کی امی ان بچوں کو قرآن بھی پڑھا دیتی ہیں۔
شکیلہ بیگم ایک دفتر میں کام کرتی ہیں۔ ان کا ایک چھوٹا بیٹا شہیر ہے جس کے لیے انہیں ایک دیکھ بھال کرنے والی خاتون کی ضرورت تھی۔ انہوں نے اپنی دوست صفیہ سے مدد مانگی۔ ان کی دوست نے خوشی خوشی حامی بھر لی۔ صفیہ آنٹی اب شہیر کا خیال رکھتی ہیں۔ وہ اسے کھانا کھلاتی ہیں اور اس سے باتیں کرتی ہیں۔ وہ شہیر کو چھوٹی چھوٹی کہانیاں بھی سناتی ہیں۔ جب شکیلہ شام میں شہیر میاں کو لینے آتی ہیں تو وہ اپنی اماں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ شکیلہ بیگم اپنی دوست کو جزاک اللہ کہتی ہیں اور ہر ہفتے ان کے لیے کوئی خاص کھانا بناتی ہیں۔
ڈاکٹر ابراہیم کا کلینک ہمارے محلے میں ہے۔ وہ بہت اچھے ڈاکٹر ہیں اور مریضوں کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ ہر مریض سے خوش اخلاقی سے بات کرتے ہیں۔ وہ چھوٹے بچوں سے مسکرا کر ملتے ہیں اور انہیں اسٹیکرز بھی دیتے ہیں۔ بچے انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔ بڑے بھی ڈاکٹر ابراہیم کو پسند کرتے ہیں۔ سب ان کی دی ہوئی ہدایات پر عمل کرتے ہیں اور دوا پابندی سے کھاتے ہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم کو اپنا کام بہت پسند ہے۔
ساحر اور طاہر جڑواں بھائی ہیں۔ وہ دیکھنے میں بالکل ایک جیسے ہیں لیکن ان کی عادتیں مختلف ہیں۔ ساحر کو کھیل پسند ہیں خصوصاً باسکٹ بال اور بیڈمنٹن۔ ساحر کو باتیں کرنے کا شوق ہے۔ ساحر اسکول سے آتے ہی، امی کو سارے دن کی روداد اونچی آواز سے سناتے ہیں۔ طاہر کو کتابیں پڑھنا پسند ہے۔ طاہر زیادہ تر خاموش رہتے ہیں۔ طاہر کو اپنا کمرہ صاف رکھنا پسند ہے۔ اسی لیے طاہر اپنی چیزوں کو ترتیب سے رکھتے ہیں۔ ساحر اور طاہر ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں۔
عیشہ کو نئی نئی کتابیں پڑھنا اچھا لگتا ہے۔ عیشہ نے اس ہفتے بھی اسکول کے کتب خانے سے ایک کتاب لی ہے۔ اس میں بہت سی دلچسپ کہانیاں ہیں۔  عیشہ کو یہ کتاب سات دن میں واپس کرنی ہے۔ عیشہ کی استانی نے سکھایا ہے کہ جب بھی ہم کچھ پڑھںے بیٹھیں تو اس سے پہلے علم میں اضافے کی دعا کرنی چاہیے۔ عیشہ نے دعا پڑھ کر کتاب پڑھنی شروع کی اور چار دن میں مکمل کر لی۔ اب عیشہ یہ کتاب اسکول کو واپس کر سکتی ہیں تاکہ وہ ایک اور کتاب ادھار لے سکیں۔
اریج اور امین امی کے ساتھ بیکری گئے۔ امی کو بسکٹ اور چپس خریدنے تھے۔ اریج بٹیا کو وہاں اسٹرابیری کپ کیک اچھا لگا۔ امین میاں کو براونی پسند آئی۔ دونوں نے امی سے پوچھا کہ کیا وہ ان کے لیے یہ چیزیں خرید سکتی ہیں؟ امی جان نے ان کی بات مان لی۔ امی نے اریج اور امین کو ان کی پسند کی چیزیں دلا دیں۔ امین میاں نے فوراً پیکٹ کھول کر کھانا چاہا تو امی نے منع کر دیا۔ امی نے انہیں بتایا کہ کچھ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے ہیں اور بسم اللہ پڑھتے ہیں۔ امین میاں نے امی کی بات مان لی۔
آمنہ  بٹیا کو کچھ دنوں سے ایک شکایت محسوس ہو رہی ہے۔ انہیں اسکول میں تختہ سیاہ پر لکھی ہوئی تحریر پڑھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ وہ کلاس کے نوٹس بورڈ پر لگی ہوئی معلومات بھی نہیں پڑھ پا رہیں۔ آمنہ نے امی جان کو اپنا مسئلہ بتایا توامی جان انہیں آنکھوں کی ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے آمنہ کی آنکھوں کا معائنہ کیا اور بتایا کہ ان کی دور کی نظر خراب ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے آمنہ کے لیے چشمہ تجویز کیا اور ان سے کہا کہ کلاس میں آگے والی بینچ پر بیٹھیں۔ امی جان نے گھر آ کر آمنہ کے لیے گاجروں کے رس کا ایک گلاس تیار کیا اور اس کے علاوہ آمنہ کو ایک دعا بھی سکھائی جو آمنہ نے یاد کر لی۔
کاشف میاں کی دو بڑی بہنیں ہیں، شفا اور دعا۔ آج موسم بہت اچھا ہے اس لیے تینوں بچوں نے اپنے والدین سے فرمائش کی ہے کہ شام میں کسی قریبی پارک چلیں۔ اباجان نے حامی بھر لی ہے۔ امی کو بھی یہ خیال اچھا لگا ہے۔ امی نے جلدی سے کچھ سینڈوچز بنائے ہیں۔ شفا اور دعا نے سینڈوچز بنانے میں ان کی مدد کی ہے۔ امی جان نے چائے اور کچھ پھل بھی باسکٹ میں رکھ لیے ہیں۔ کاشف میاں نے چادر اور پانی کی بوتلیں گاڑی میں رکھ دی ہیں۔ اب سب تیار ہیں اور گاڑی میں بیٹھ چکے ہیں۔ گاڑی چلنے سے پہلے امی نے سب سے کہا کہ سفر کی دعا پڑھ لیں۔
ہما بیگم کو کچھ سامان خریدنے کے لیے بازار جانا تھا۔ وہ گھر سے نکلیں اور قریبی سپرمارکیٹ پہنچ گئیں۔ اس مارکیٹ میں قریباً سبھی کچھ ملتا ہے۔ ہما بیگم نے باورچی خانے کے استعمال کی چیزیں اور کچھ مصالحے لیے۔ انہوں نے کچھ سبزیاں اور کچھ پھل بھی خریدے۔ گائے کے گوشت کے علاوہ انہوں نے تازہ پالک اور لوکی، رسدار نارنگی، جامنی انگور اور جامن بھی خریدے۔ گھر پہنچتے ہی ہما نے سب سے پہلے پھل دھو کر گھر والوں کو دیئے۔ اس کے بعد وہ کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئیں۔ گھر کے سب افراد نے خیال رکھنے پر ہما کو شکریہ اور جزاک اللہ  کہا۔ 
مہرین بٹیا صبح جلدی اٹھ جاتی ہیں اور اسکول کے لیے خود ہی تیار ہوتی ہیں۔ آج مہرین کے اسکول میں تقریری مقابلہ ہے اور مہرین نے اس کی بہت اچھی تیاری کی ہے۔ مہرین کی امی جانتی ہیں کہ اسکول جانے سے پہلے اور کسی بھی مقابلے سے پہلے اچھا ناشتہ کرنا ضروری ہے تاکہ طاقت اور توانائی ملے۔ انہوں نے مہرین بٹیا کو ابلے ہوئے انڈے اور کھجور کے علاوہ دودھ کا ایک کپ ناشتے میں دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے آدھی چھٹی کے لیے ٹفن میں پھل اور بسکٹ رکھ دیئے۔ مہرین بٹیا خوش ہو گئیں۔
ثروت اپنی دوست ماریہ کے ساتھ مارکیٹ گئیں۔ انہیں اپنے لیے کچھ کپڑے خریدنے تھے۔ وہ ایک اسٹور میں داخل ہوئیں جس میں مناسب قیمت میں اچھے کپڑے مل جاتے ہیں۔ ثروت کو وہاں گلابی رنگ کا ایک کرتا پسند آیا۔ انہوں نے ماریہ سے مشورہ مانگا۔ ماریہ نے انہیں بتایا کہ وہ کرتا ان پر اچھا لگے گا۔ اس کرتے کے علاوہ ثروت نے کچھ رنگین دوپٹے اور اسکارف بھی خریدے۔ اسی اسٹور میں انہیں اپنے بستر کے لیے ایک چادر بھی پسند آ گئی۔ انہوں نے سب چیزیں اپنی دوست کے مشورے سے خریدیں۔ مشورہ کرنا اچھی بات ہے۔
اذان نے گھر پر دو سال پہلے سفید رنگ کروایا تھا۔ اب اذان کو سفید رنگ سے اکتاہٹ ہونے لگی ہے۔ انہوں نے سوچا کہ اس سال کوئی مختلف رنگ کروائیں۔ انہوں نے مختلف رنگوں کے متعلق سوچا۔ ان کے خیال میں سرخ رنگ سے گھر بہت نمایاں ہو جائے گا۔ نیلا رنگ بھی انہیں پسند نہیں۔ اذان کے خیال میں نیلے رنگ سے گھر اداس لگتا ہے۔ انہوں نے پیلا رنگ بھی پسند نہیں کیا کہ پیلا بہت چمکتا ہوا محسوس ہو گا۔ آخر میں انہیں سبز رنگ کا خیال آیا۔ اذان کے خیال میں اس سے گھر پر سکون لگے گا۔ سبز رنگ آنکھوں کے لیے بھی بہت اچھا ہوتا ہے۔

عثمان کا گھر ساحل سمندر کے قریب ہے۔ عثمان اور ان کے دادا اکثر ساحلِ سمندر جاتے ہیں۔ وہ اپنی کار پر جانے کے بجائے سائیکل چلاتے ہوئے جاتے ہیں۔ دادا جان ایک نوجوان کی طرح دیر تک سائیکل چلا سکتے ہیں لیکن وہ بہت آہستہ سائیکل چلاتے ہیں۔ عثمان کبھی کبھار بہت تیز سائیکل چلاتے ہیں جس پر دادا جان انہیں ٹوکتے ہیں۔ تیز رفتاری سے حادثے کا خطرہ ہوتا ہے۔ وہ دونوں تقریباً ایک گھنٹے تک سائیکل چلانے کے بعد  گھر واپس آجاتے ہیں۔ گھر پر امی کوئی پھل یا پھل کا رس انہیں دیتی ہیں تاکہ ورزش کے بعد ان میں دوبارہ توانائی آجائے۔ ورزش کرنا اچھا عمل ہے اور سائیکل چلانا بہترین ورزش ہے۔