ارسلان ریس کے لیے بالکل تیار ہے۔ سارے لڑکے ترتیب سے لائن پر کھڑے ہیں۔ ارسلان کے اسکول میں کھیلوں کے سالانہ مقابلے ہو رہے ہیں اور دسویں جماعت کے لڑکوں کے لیے سب سے لمبی ریس رکھی گئی ہے۔ ارسلان نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی طرف دیکھا۔ وہ سب بہت پراعتماد نظر آ رہے ہیں۔ ارسلان کو گھبراہٹ سی ہے۔ اس کے ہاتھ پہلے ہی پسینے سے بھیگ چکے ہیں۔ اس نے دل ہی دل میں اپنی امی کی بتائی ہوئی دعا دہرائی تاکہ اس کی پریشانی اور گھبراہٹ کم ہو۔ سیٹی بجتی ہے اور دوڑ شروع ہوجاتی ہے۔ شروع میں وہ تیس سیکنڈ تک آہستہ دوڑتا ہے۔ پھر وہ اپنی رفتار تیز کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھی کھلاڑی شروع میں تیز آرہے تھے لیکن اب سست پڑ چکے ہیں۔ شاید وہ تھک چکے ہیں۔ ارسلان سب سے پہلے اختتامی لکیر تک پہنچ جاتا ہے۔ اپنے نام کا اعلان سنتے ہی ارسلان سجدہ شکر ادا کرتا ہے۔
سننے کی مشق کے بعد بات چیت
کیا آپ کو کوئی ایسا واقعہ یاد ہے جس میں آپ نے گھبراہٹ پر قابو پایا ہو؟ تفصیل بتائیے۔