سنی ان سنی
اگر آپ اردو پڑھاتی/ پڑھاتے ہیں اور وقفے وقفے سے طلبا کی سمعی مہارت کی جانچ کرتے ہیں تو یہاں آپ پائیں گے 'سمعی مہارت کی سرگرمیاں' ۔ ان سرگرمیوں سے طلبا کے فہم میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کا تلفظ بہتر ہوتا ہے۔ہم نے مشقوں کو درجات میں تقسیم کیا ہے۔ بہرحال طلبا کی صلاحیت اور اپچ کے مطابق موزوں سرگرمی کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ مختلف انداز سے بچوں کی سمعی مہارت کی جانچ کے لیے ہر سرگرمی میں آڈیو کے ساتھ دو یا تین مشقیں دی گئی ہیں۔ہمیں ضرور بتائیے گا کہ ہم اپنی زنبیل میں کن نئی مشقوں کا اضافہ کر سکتے ہیں یا ان سرگرمیوں کو مزید بہتر کیسے بنا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ ہمیں اپنی تیار کردہ سرگرمی بھی بھیج سکتی/ سکتے ہیں۔ اسے ہم تدوین کے بعد زنبیل کے صارفین کے لیے پیش کریں گے اور شکریے کے ساتھ آپ کے تعاون کے اعتراف کریں گے۔
- زینہ اول- زینہ دوم
- زینہ سوم
سمعی مہارت کی مشقیں
زلفی بھیا اسلام آباد میں رہتے ہیں۔ ان کا آفس پچھلے سال وہاں منتقل ہو گیا تھا۔ میں اور عمر انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ وہ سال میں صرف ایک بار چھٹیاں لے کر کراچی آتے ہیں لیکن ہم سے ہر روز فون پر بات کرتے ہیں۔ وہ امی جان اور ابا جان سے بات کرکے انہیں اپنی خیریت بتاتے ہیں۔ ابا جان سے کام کے حوالے سے مشورہ بھی کرتے ہیں اور امی سے کھانے کی ترکیبیں بھی پوچھتے ہیں۔ میں انہیں اپنے اسکول کے بارے میں بتاتی ہوں۔ لیکن عمر ۔۔۔عمر ان سے بات نہیں کرتا۔ وہ ابھی تک ناراض ہے کہ زلفی بھیا اسلام آباد کیوں گئے۔ امی جان روز انہیں بہت سی دعائیں دیتی ہیں اور اگلے دن فون کرنے کی تاکید کرتی ہیں۔
ہمارے چچا جان کے ایک دوست حیدرآباد میں رہتے ہیں۔ ان کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے چچا جان کو حیدرآباد جانا ہے۔ ان کی فیملی میں بیگم، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دادا جان اور دادی جان بھی چچا جان کے ساتھ رہتے ہیں لیکن وہ اس لمبے سفر پر نہیں جا رہے۔ حیدرآباد کراچی سے بہت دور نہیں لیکن وہاں پہنچنے میں کم از کم تین گھنٹے لگتے ہیں۔ چچا جان نے سفر کی مکمل تیاری کی۔ چچی جان نے راستے میں کھانے کے لیے سینڈوچ اور کباب بنا کر رکھ لیے ہیں۔ اور پانی کی بوتلیں بھی رکھی ہیں۔ وہ اپنا کیمرا بھی ساتھ لے جا رہے ہیں تاکہ سفر کے دوران تصویریں لیں۔ اس کے علاوہ وہ شادی کی تصویریں بھی کھینچیں گے۔ دادی جان نے انہیں سفر پر جانے سے پہلے دعا دی کہ وہ خیریت سے جائیں اور خیریت سے واپس آئیں۔
زیان بیٹے کو اسٹیکرز جمع کرنے کا بہت شوق ہے۔ زیان کو بچپن میں ان کی استانی نے انعام کے طور پر کچھ اسٹیکرز دیئے تھے جس کے بعد ان میں یہ شوق پیدا ہوا۔ زیان میاں کے پاس مختلف شکل، رنگ اور بناوٹ کے پانچ سو سے زیادہ اسٹیکرز ہیں۔ ان میں کچھ جانوروں والے اسٹیکرز ہیں اور کچھ پھل اور سبزیوں کے۔ کیڑوں والے اسٹیکرز تو بالکل اصلی لگتے ہیں۔ زیان میاں ہر ملک کے جھنڈے کا اسٹیکر بھی اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک ان کے پاس سارے ممالک کے جھنڈوں کے اسٹیکرز جمع نہیں ہو سکے۔ وہ اپنے اسٹیکرز کا مجموعہ سب کو فخر سے دکھاتے ہیں۔
مس حبیبہ بہت اچھی استانی ہیں۔ وہ ریاضی کو آسان بنا کر پڑھاتی ہیں۔ پڑھانے کے ساتھ وہ اپنے طلبہ کو اچھا انسان بنانے کی کوششُ بھی کرتی ہیں اور وقتا” فوقتا” بچوں کو اچھی باتیں بتاتی رہتی ہیں۔ ایک دن مس حبیبہ بیمار ہو گئیں اور اسکول نہیں آ سکیں۔ ان کے طلبہ اداس ہو گئے۔ ان کی جگہ ایک دوسرے استاد نے بچوں کو ریاضی پڑھائی۔ بچوں کو سر احمد کا انداز سمجھ نہیں آیا کیونکہ انہوں نے ریاضی کو مشکل اور الجھا ہوا بنا دیا۔ انہوں نے طلبہ کو بہت زیادہ ڈانٹ ڈپٹ بھی کی۔ طلبہ چاہتے ہیں کہ مس حبیبہ جلد صحتیاب ہو کر واپس آ جائیں۔ سب نے مل کر مس حبیبہ کی صحت کے لیے دعا کی۔
ارسلان ریس کے لیے بالکل تیار ہے۔ سارے لڑکے ترتیب سے لائن پر کھڑے ہیں۔ ارسلان کے اسکول میں کھیلوں کے سالانہ مقابلے ہو رہے ہیں اور دسویں جماعت کے لڑکوں کے لیے سب سے لمبی ریس رکھی گئی ہے۔ ارسلان نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی طرف دیکھا۔ وہ سب بہت پراعتماد نظر آ رہے ہیں۔ ارسلان کو گھبراہٹ سی ہے۔ اس کے ہاتھ پہلے ہی پسینے سے بھیگ چکے ہیں۔ اس نے دل ہی دل میں اپنی امی کی بتائی ہوئی دعا دہرائی تاکہ اس کی پریشانی اور گھبراہٹ کم ہو۔ سیٹی بجتی ہے اور دوڑ شروع ہوجاتی ہے۔ شروع میں وہ تیس سیکنڈ تک آہستہ دوڑتا ہے۔ پھر وہ اپنی رفتار تیز کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھی کھلاڑی شروع میں تیز آرہے تھے لیکن اب سست پڑ چکے ہیں۔ شاید وہ تھک چکے ہیں۔ ارسلان سب سے پہلے اختتامی لکیر تک پہنچ جاتا ہے۔ اپنے نام کا اعلان سنتے ہی ارسلان سجدہ شکر ادا کرتا ہے۔
منیرہ کے اسکول کی باسکٹ بال ٹیم ایک اہم مقابلہ جیت گئی۔ وہ اور اس کی سب ساتھی کھلاڑی مل کر اس خوشی کا جشن منانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے طے کیا کہ وہ سب منیرہ کے گھر جمع ہوں گی۔ انہیں کھانے کی کچھ پسندیدہ چیزیں لینی تھیں اور کچھ اور انتظامات بھی کرنے تھے۔ سب لڑکیوں نے کام آپس میں تقسیم کر لیے۔ ارمین نے بیکری جا کر آرڈر کیا کہ باسکٹ بال کی شکل کا ایک کیک تیار کر دیں۔ عیشال نے سجاوٹ اور کھیل کا سامان خریدا جس میں بلبلے بنانے والی چھوٹی سی بندوق، رنگ برنگے غبارے اور جھنڈیاں شامل تھیں۔ منیرہ نے انعم کے ساتھ مل کر ساری ساتھیوں کے بیٹھنے اور کھیلنے کا انتظام کیا۔ جمعے کے دن ٹیم کی تمام ساتھی منیرہ کے گھر جمع ہوئیں۔ سب سے پہلے انہوں نے مل کر اللہ کا شکر ادا کیا، اور اپنی ٹیم کی اگلی کامیابیوں کے لیے دعا کی۔ پھر سب نے مختلف کھیل کھیلے اور مل کر کیک کاٹا۔ سب خوشی خوشی اپنے گھروں کو لوٹ گئیں۔
منیرہ باسکٹ بال کھیلتی ہے۔ وہ بہت ماہر کھلاڑی ہے اور ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ اس کی ہم آہنگی بہت اچھی ہے۔ آج منیرہ کے اسکول کی ٹیم کا مقابلہ ایک دوسرے اسکول کی ٹیم سے ہے۔ شروع ہی سے بہت دلچسپ مقابلہ ہو رہا ہے۔ منیرہ اپنی ساتھی کھلاڑی کی طرف دیکھتی ہے اور ساتھی اسے گیند پاس کرتی ہے۔ وہ مخالف ٹیم کے کورٹ کی طرف تیزی سے دوڑتی ہے۔ اس کے لیے بہت پھرتی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب منیرہ گیند کو باسکٹ میں ڈالتی ہے تو اس کی ٹیم بہت خوش ہوتی ہے۔ سب اسے گلے لگاتے ہیں اور اس کا نام زور سے پکارتے ہیں۔ تماشائی بھی خوشی سے داد دیتے ہیں، “واہ! شاباش!”
ہمارے گھر کے قریب ناصر پارک ہے۔ ناصر پارک بہت خوبصورت اور ہرابھرا ہے۔ یہ بہت بڑا بھی ہے اور اس کی صفائی ستھرائی بھی بہت اچھے طریقے سے کی جاتی ہے۔ ناصر پارک میں بہت سے پودے اور پھول ہیں؛ چنبیلی کے سفید پھول، چائنا روز کے گلابی پھول، پٹونیا کے جامنی پھول اور بہت سے مختلف رنگوں، شکل اور سائز کے پودے۔ کچھ پودے چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے۔ مالی بابا نئے پودے بھی لگاتے ہیں۔ باغ میں ایک فوارہ بھی ہے اور بہت سے جھولے بھی۔ ناصرپارک میں ایک چھوٹے سے حصے میں کچھ پنجرے ہیں جن میں خوبصورت پرندے، بندر، بطخیں، کچھوے اور خرگوش ہیں۔ بچے ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں اور ان سے باتیں کرتے ہیں۔
ساحل سمندر بہت مزے کی جگہ ہے۔ ہم ہر سال دو یا تین مرتبہ کراچی کے ساحل پکنک منانے جاتے ہیں۔ وہاں ہمیں بہت سے لوگ نظر آتے ہیں۔ کچھ تیرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ اپنے سرفنگ بورڈ پر لہروں کے بیچ سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ صرف آرام کرنا چاہتے ہیں اس لیے ریت پر لیٹ جاتے ہیں۔ بچے ریت کے قلعے بناتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے قلعے بڑے اور اونچے ہوں۔ بعد میں سمندر کی لہریں ان قلعوں کو بہا لے جاتی ہیں۔ جب لہریں اونچی اور تیز ہوں تو سمندر میں جانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور احتیاط کرنی چاہیے۔
عثمان کا گھر ساحل سمندر کے قریب ہے۔ عثمان اور ان کے دادا اکثر ساحلِ سمندر جاتے ہیں۔ وہ اپنی کار پر جانے کے بجائے سائیکل چلاتے ہوئے جاتے ہیں۔ دادا جان ایک نوجوان کی طرح دیر تک سائیکل چلا سکتے ہیں لیکن وہ بہت آہستہ سائیکل چلاتے ہیں۔ عثمان کبھی کبھار بہت تیز سائیکل چلاتے ہیں جس پر دادا جان انہیں ٹوکتے ہیں۔ تیز رفتاری سے حادثے کا خطرہ ہوتا ہے۔ وہ دونوں تقریباً ایک گھنٹے تک سائیکل چلانے کے بعد گھر واپس آجاتے ہیں۔ گھر پر امی کوئی پھل یا پھل کا رس انہیں دیتی ہیں تاکہ ورزش کے بعد ان میں دوبارہ توانائی آجائے۔ ورزش کرنا اچھا عمل ہے اور سائیکل چلانا بہترین ورزش ہے۔
