زیان بیٹے کو اسٹیکرز جمع کرنے کا بہت شوق ہے۔ زیان کو بچپن میں ان کی استانی نے انعام کے طور پر کچھ اسٹیکرز دیئے تھے جس کے بعد ان میں یہ شوق پیدا ہوا۔ زیان میاں کے پاس مختلف شکل، رنگ اور بناوٹ کے پانچ سو سے زیادہ اسٹیکرز ہیں۔ ان میں کچھ جانوروں والے اسٹیکرز ہیں اور کچھ پھل اور سبزیوں کے۔ کیڑوں والے اسٹیکرز تو بالکل اصلی لگتے ہیں۔ زیان میاں ہر ملک کے جھنڈے کا اسٹیکر بھی اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک ان کے پاس سارے ممالک کے جھنڈوں کے اسٹیکرز جمع نہیں ہو سکے۔ وہ اپنے اسٹیکرز کا مجموعہ سب کو فخر سے دکھاتے ہیں۔
سننے کی مشق کے بعد بات چیت
آپ کا کیا شوق ہے؟ اس کے بارے میں بتائیے؟
اگر ہمیں کوئی کام کرنے کا شوق ہو تو اس سے کیا فائدے یا کیا نقصانات ہوتے ہیں؟